← v13n2, Fall 2014
Poetry · Volume 13, Number 2

محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا by Ghalib

محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا

یاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا

رنگِ شکستہ صبحِ بہارِ نظارہ ہے

یہ وقت ہے شگفتنِ گل ہائے ناز کا

تو اور سوئے غیر نظر ہائے تیز تیز

میں اور دُکھ تری مِژہ ہائے دراز کا

ہیں بسکہ جوشِ بادہ سے شیشے اچھل رہے

ہر گوشۂ بساط ہے سر شیشہ باز کا

تاراجِ کاوشِ غمِ ہجراں ہوا، اسدؔ

سینہ، کہ تھا دفینہ گہر ہائے راز کا